Asaduddin Owaisi
Asaduddin Owaisi

@asadowaisi

13 Tweets 33 reads Aug 13, 2022
1857ء کی جنگ آزادی کے روح رواں حضرت علامہ فضل حق، خیرآبادی اپنے عہد وعصر کے شہرۂ آفاق صاحبِ کمال اور متجبّر عالم و مصنف و مفکر و عظیم قائد تھے۔
علّامہ فضل حق خیرآبادی 1797ء میں اپنے آبائی وطن خیرآباد میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ماجد مولانا فضل امام خیرآبادی علمائے عصر میں ممتاز اور علوم عقلیہ کے اعلیٰ درجے پر سرفراز تھے۔ دارالسلطنت دہلی میں صدر الصدور کے عہدۂ جلیلہ پر فائز اور دینی و دنیوی نعمتوں سے مالامال تھے۔
4/سال کچھ ماہ کی عمر میں علامہ فضل حق نے قرآن عظیم حفظ فرمالیا تھا، اور محض 13/ سال کی عمر میں آپ نے تمام علوم متداولہ پڑھ کر عالم فاضل بن چکے تھے۔
جب پورے ہندوستان پر انگریز قابض تھے صنعت و تجارت سے لےکر تعلیم تک ان کے قبضہ میں تھی، لوگوں کو طرح طرح سے ستایا جارہا تھا، تو سب کی چاہت یہی تھی کہ انگریزوں کو کسی بھی طرح ہندوستان سے بھگایا جائے لیکن معاملہ یہ تھا کہ ان ظالم انگریزوں کے خلاف اس مہم کی شروعات کون کرے؟
علامہ فضل حق نے دہلی کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے بعد سب سے پہلے انگریزوں کے خلاف ایک زبردست تقریر فرمائی اور اسی تقریر میں لوگوں کو جہاد پر آمادہ کیا، جہاد کی فرضیت سے روشناس کرایا اور علماء کے سامنے اِستِفتاء پیش کیا، جس میں انگریز کے خلاف جہاد کے لیے کہا گیا تھا۔
جس پر 33 علماء نے اپنے تائیدی دستخط ثبت کیے اور پھر یہ فتوی دہلی کے اخبار “الظفر اردو” میں شائع ہوا۔ علامہ کا جہاد کا فتویٰ جاری کرنا تھا کہ صرف دہلی میں ٩٠٠٠٠؍سپاہ جمع ہو گئی۔ اور انگریز کے خلاف جذبۂ حریت بیدار ہوا اور ایک بہت بڑی عظیم لہر دوڑگئی۔
انگریزوں نے اپنی مکّاری اور خباثت والی تدبیریں چلا کر اور بے شمار لوگوں کو قتل کرنے کے بعد وقتی طور پر اس نے تحریک کو کُچل دیا لیکن حقیقت میں حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی نے آزادی کا سنگ بنیادرکھ دیا تھا۔
جنوری 1859ء میں آپ کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلا اور کالاپانی کی سزا ہوئی۔ آپ نے اپنا مقدمہ خود لڑا اور عدالت میں کہا کہ: "جہاد کا فتویٰ میرا لکھا ہوا ہے اور میں آج بھی اپنے اس فتویٰ پر قائم ہوں"
جِس مخبر نے علامہ خیرآبادی کو گرفتار کرایا تھا اُس نےلکھنؤ کورٹ میں انکار کر دیا تھا کہ مجھے نہیں معلوم کہ فتویٰ جہاد پر جس نے دستخط کئے ہیں و یہ فضل حق ہیں یہ کوئی اور ہیں، اس پر علامہ فضل حق نے فرمایا ' مخبر نے جو رپورٹ پہلے لکھوائی ٹھی وہ بلکل صحیح ہے کہ فتویٰ میرا ہے’
علامہ کی کتابیں، جائیداد، مال و متاع اور اہل وعیال کے رہنے کا امکان، ہر چیز پر غاصبانہ قبضہ کرلیا گیا۔
کالاپانی میں ان کے اور ان کے ساتھ موجود تمام مجاہدین آزادی کے اوپر کس طرح کے ظلم کے پہاڑ توڑے گئے خود علامہ نے اپنی کتاب الثورة الهندية (باغی ہندوستان) جسے انہونے نرم کوئلہ سے پھٹے کپڑے اور پیپر پر مفتی عنایت احمد کاکوروی کے ذریعے ہندوستان پہنچائی تھی اس میں یوں بیان کرتے ہیں۔
ان سب ظلموں کو برداشت کئے لیکن کبھی معافی نہیں مانگے بس اپنے الله سے یوں دعا کرتے رہے۔
علامہ متعدد سخت امراض میں مبتلا ہو گئے۔ صبح و شام اس طرح بسر ہوتی کہ تمام بدن زخموں سے چھلنی بن چکا تھا۔
اور ایک دن 12/صفر 1278ھ مطابق 1861ء میں علامہ فضل حق خیرآبادی عظیم مجاہد آزادی کی روح قفس عنصری سے آزاد ہو گئی, علامہ کی قبر انڈمان کے ساؤتھ پوائنٹ کی ایک بستی میں ہے۔

Loading suggestions...